شرائط برائے مدرس
دار العلوم عزیزیہ
صاحبِ نسبت ہونا، شریعت کا پابند ہونا۔
متعلقہ کلاس کے طلباء کی تربیت کرنا۔
ارکانِ اربعہ (طریقت، سیاست، تبلیغ، جہاد) سے مخالف نہ ہونا۔
وقت کا پابند ہونا، بغیر کسی عذر کے چھٹی نہ کرنا۔
طلباء کرام کے مابین جو بھی مسئلہ ہو، اس کی اطلاع دفتر کو دینا۔
متعلقہ کلاس کے طلباء کی نماز، نوافل اور وظائف کی نگرانی کرنا اور خود شریک ہونا۔
طالب علم کو سزا مدرسہ کے وضع شدہ طریقہ کار کے مطابق دینا جو مستقل طور پر ذکر کیا جائے گا۔
طلباء کی صفائی، وردی، بال، بستر وغیرہ کی نگرانی کرنا۔
طالب علم کی الحاق اور اخراج کا اختیار دفتر کو ہوگا، چاہے یہ سال کے آخر میں ہی کیوں نہ ہو۔
جو بھی شکوہ یا شکایت ہو، اخلاق کے دائرے میں رہ کر کسی اور کے بجائے براہ راست مہتمم جامعہ کو اطلاع دینا۔
طالب علم سے ذاتی خدمت مثلاً پاؤں دبوانا ممنوع ہوگا۔
طالب علم سے دوستانہ تعلقات رکھنا ممنوع ہوگا۔
اپنی وسعت کے مطابق اجتماعات میں مدرسہ کے ساتھ تعاون کرنا۔
مدرسہ کے خلاف کسی بھی سازش میں شریک نہ ہونا۔
مذکوره شرائط پر عمل نہ کرنے کی صورت میں منتظمین مدرسہ کو استاد کا اخراج کرنے کا مکمل اختیار ہوگا، چاہے سال کے وسط میں ہو، اور استاد بقایا سال کے کسی بھی معاوضے کا حقدار نہ ہوگا۔
ضابطہ تادیب طلباء
طالب علم کی سزا کا طریقہ کار
مدرسہ کے طلباء کی دینی اخلاقی اور تعلیمی تربیت کے پیش نظر سزا کا ایک واضح اور متعین طریقہ کار مرتب کیا گیا ہے، تاکہ نظم و ضبط برقرار رہے اور کسی قسم کی زیادتی یا نا انصافی نہ ہو۔
قرآن و حدیث کی روشنی میں تربیت اور سزا کا تصور
نرمی اور حکمت سے تربیت اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
ادْعُ إلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ
125 :النحل
اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ۔ یہ آیت واضح کرتی ہے کہ طلباء کی اصلاح میں حکمت اور نرمی کا پہلو سب سے اہم ہونا چاہیے۔
سختی کا اعتدال میں ہونا
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: مَنْ لَا يَرْحَمِ النَّاسَ لَا يَرْحَمْهُ اللَّهُ
5997 صحیح بخاری
جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا، اللہ اس پر رحم نہیں کرتا۔” یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ اساتذہ کو سختی میں بھی رحم کا پہلو ضرور ملحوظ رکھنا چاہیے۔
بچوں کی درستگی کا حکم
:نبی ﷺ نے فرمایا
مرُوا أَوْلَادَكُمْ بِالصَّلَاةِ وَهُمْ أَبْنَاءُ سَبْعِ سِنِينَ، وَاضْرِبُوهُمْ عَلَيْهَا وَهُمْ أَبْنَاءُ عَشْرِ
سنن ابی داؤد 495
اپنے بچوں کو سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دو اور دس سال کی عمر میں اگر نہ پڑھیں تو ہلکی سزا دو۔” یہ حدیث اس بات پر دلیل ہے کہ تربیت کے لیے ہلکی سزا بھی دین میں جائز ہے، بشرطیکہ زیادتی نہ ہو۔
اہم ہدایات برائے اساتذہ
سزا ہمیشہ مدرسہ کے وضع شدہ طریقہ کار کے مطابق دی جائے گی۔
. اگر کوئی استاد اس کے علاوہ کسی اور طریقے سے بچے کو سزا دیتا ہے، تو اس کے تمام نتائج کا ذمہ دار خود استاد ہوگا۔
. مدرسہ اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی ذمہ داری قبول نہیں کرے گا۔
. تربیت کے دوران ہمیشہ عدل نرمی اور حکمت کا خیال رکھا جائے گا۔
جامع نصیحت برائے اساتذہ و طلباء
علم نور ہے، اور یہ نور صرف محبت صبر، عاجزی اور ادب کے ساتھ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
اساتذہ طلباء کے لیے روحانی باپ کا درجہ رکھتے ہیں لہٰذا انہیں چاہیے کہ شفقت نرمی اور اخلاق کا اعلیٰ معیار قائم رکھیں۔
طلباء پر لازم ہے کہ اپنے اساتذہ کا احترام کریں، ان کے احکامات کی تعمیل کریں اور نظم و ضبط کا خیال رکھیں۔
قرآن و حدیث کے مطابق اعتدال اختیار کرنا سب کے لیے ضروری ہے۔ نہ سختی میں زیادتی ہو اور نہ نرمی میں کوتاہی۔
سزا کی شرعی حکم
اصل :مقصد تربیت نہ کہ اذیت
اسلامی شریعت میں طالب علم کو سزا دینے کا مقصد اصلاح اور تربیت ہے، نہ کہ اذیت دینا یا دل آزاری کرنا۔
:اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے
ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبَّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ
النحل125
اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ۔
:نتیجه
تربیت کا پہلا درجہ نصیحت اور حکمت ہے۔
نبی کریم ﷺ کی تعلیمات
نبی کریم ﷺ نے بچوں اور طلباء کی تربیت میں رحمت نرمی اور شفقت کو سب سے اہم قرار دیا۔
نبی کریم ﷺ کی تعلیمات
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ شَيْئًا قَطُّ بِيَدِهِ، وَلَا امْرَأَةً وَلَا خَادِمًا
صحیح مسلم، حدیث2328
رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی چیز کو ہاتھ سے نہیں مارا، نہ عورت کو اور نہ ہی خادم کو۔
:نتیجہ
اصل سنت یہ ہے کہ مار پیٹ کو ترجیح نہ دی جائے۔
پہلے نصیحت سمجھانا اور ترغیب دینا ضروری ہے۔
نماز کے معاملے میں ہلکی سزا کی اجازت
:نبی ﷺ نے فرمایا
مُرُوا أَوْلَادَكُمْ بِالصَّلَاةِ وَهُمْ أَبْنَاءُ سَبْعِ سِنِينَ، وَاضْرِبُوهُمْ عَلَيْهَا وَهُمْ أَبْنَاءُ عَشْرِ
سنن ابوداؤد495
اپنے بچوں کو سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دو اور جب وہ دس سال کے ہو جائیں تو نہ پڑھنے پر ہلکی سزا دو۔
:نتیجہ
تربیت میں ہلکی سزا جائز ہے۔
یہاں بھی مقصد اصلاح ہے، نہ کہ اذیت۔
فقہاء کے اقوال
فقہاء نے طلباء کے لیے سزا کے اصول وضع کیے ہیں:
فقہ حنفی میں
امام ابن عابدین شامی رحمہ اللہ لکھتے ہیں
يُؤَدِّبُ الصَّبِيُّ بِمَا يُصْلِحُهُ وَلَا يُبَالَغُ فِي الضَّرْبِ
رد المحتار6/373
نماز کے معاملے میں ہلکی سزا کی اجازت
:نبی ﷺ نے فرمایا
مُرُوا أَوْلَادَكُمْ بِالصَّلَاةِ وَهُمْ أَبْنَاءُ سَبْعِ سِنِينَ، وَاضْرِبُوهُمْ عَلَيْهَا وَهُمْ أَبْنَاءُ عَشْرِ
سنن ابوداؤد495
اپنے بچوں کو سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دو اور جب وہ دس سال کے ہو جائیں تو نہ پڑھنے پر ہلکی سزا دو۔
:نتیجہ
تربیت میں ہلکی سزا جائز ہے۔
یہاں بھی مقصد اصلاح ہے، نہ کہ اذیت۔
بچے کو اس قدر ادب دیا جائے جو اس کی اصلاح کے لیے ضروری ہو، لیکن مار پیٹ میں زیادتی نہ کی جائے۔
بعض فقہاء نے حد مقرر کی ہے کہ: طلباء پر دس سے زیادہ کوڑے نہیں مارے جائیں گے۔
الدر المختار3/142
فقہ شافعی میں
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں
يُؤَدِّبُ الصَّبِيُّ تَأْدِيبًا خَفِيفًا، وَلَا يُبَالَغُ فِيهِ، وَلَا يُكْسَرُ لَهُ عَظْمٌ
المجموع شرح المهذب4/207
بچے کو ہلکی سزا دی جا سکتی ہے، مگر اس میں زیادتی نہ ہو اور نہ ایسا ہو کہ ہڈی ٹوٹ جائے۔
:شرعی سزا کے اصول
اسلامی کتب کی روشنی میں طالب علم کی سزا کے لیے درج ذیل شرائط متفق علیہ ہیں:
:سزا کا مقصد
صرف اصلاح اور تربیت ہو۔
بدلہ انتقام یا غصہ شامل نہ ہو
:سزا کی مقدار
زیادہ سے زیادہ دس ہلکی ضربیں فقہاء کی اکثریت کا قول
جسم کے نازک حصوں پر مارنا ممنوع ہے۔
:سزا کا طریقہ
پہلے نصیحت پھر تربیت پھر تنبیہ اور آخر میں ہلکی سزا۔
:مارنے کی جگہ
چہرے اور سر پر مارنا ممنوع ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا
إِذَا ضَرَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَجْتَنِبِ الْوَجْهَ
صحیح مسلم2612
جب تم کسی کو مارو تو چہرے سے اجتناب کرو۔
:خلاصہ
اسلام میں طلباء کو بلاوجہ سزا دینا ممنوع ہے۔
اصلاح کے لیے ہلکی سزا دی جا سکتی ہے، مگر
نصیحت اور نرمی کو مقدم رکھا جائے۔
جسمانی نقصان نہ پہنچایا جائے۔
چہرہ اور نازک اعضاء محفوظ ہوں۔
مار پیٹ دس ہلکی ضربوں سے زیادہ نہ ہو۔
جدید نفسیاتی پہلو
:سزا کے بجائے اصلاح پر زور دینا
تحقیق بتاتی ہے کہ زیادہ سخت جسمانی سزا سے طلباء کے اندر
ضد اور ہٹ دھرمی پیدا ہوتی ہے
تعلیم سے دل چسپی کم ہو جاتی ہے
اور خوف کی وجہ سے شخصیت دب جاتی ہے۔
اسلام بھی بچوں کو نرم رویہ اور اصلاحی انداز سے سکھانے کی ترغیب دیتا ہے۔
:حدیث
لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ إِنَّمَا الشَّدِيدُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الغَضَبِ
صحیح بخاری، کتاب الادب
ترجمہ: طاقتور وہ نہیں جو لوگوں کو پچھاڑ دے بلکہ طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے۔”
بچے کی ذہنی نشوونما کا خیال رکھنا: 7 سے 15 سال کے بچوں کی شخصیت تیزی سے بنتی ہے
زیاده سختی یا توہین طلباء کے اندر کمزوری شرمندگی اور خود اعتمادی کی کمی پیدا کرتی ہے۔
. سزا دیتے وقت یہ دیکھنا ضروری ہے کہ بچے کی ذہنی پختگی اور مزاج کے مطابق طریقہ استعمال کیا جائے
مثبت تربیتی طریقے
اگر کسی بچے نے اچھا کام کیا ہو تو اس کی تعریف کرنا اس کے ذہن پر زیادہ مثبت اثر ڈالتی ہے۔
طلباء کو انعام تعریف یا خصوصی توجہ دینے سے وہ برے کام چھوڑ کر اچھے کام کرنے پر راغب ہوتے ہیں۔
جدید تعلیمی ماہرین کہتے ہیں کہ تعریف اور حوصلہ افزائی سزا سے زیادہ مؤثر ہے۔
سزا میں توازن اور اعتدال
اگر سزا ناگزیر ہو تو
ہلکی اور اصلاحی نوعیت کی ہو،
بچے کی عزت نفس متاثر نہ ہو،
جسمانی نقصان نہ پہنچے۔
:مثلاً
ہلکی سزا جیسے کڑا کرنا، دوڑ لگوانا، اضافی سبق یاد کروانا
مار پیٹ سے حتی الامکان گریز کیا جائے۔
اسلام میں بھی تعلیم و تربیت کے لیے ہلکی سزا کی اجازت ہے، مگر سخت اذیت یا بے عزتی ممنوع ہے۔
استاد کا رویہ طلباء پر اثرانداز ہوتا ہے
طلباء اپنے اساتذہ کی نقل کرتے ہیں۔ اگر استاد پرامن متوازن اور محبت بھرے انداز میں پڑھائے تو طلباء میں بھی یہی رویہ پروان چڑھتا ہے
اگر استاد غصے میں مارنے والے ہوں تو بچے یا تو ڈرپوک ہو جاتے ہیں یا باغی بن جاتے ہیں۔
سزا سے پہلے وضاحت دینا
بچے کو سمجھایا جائے کہ وہ کس غلطی پر سزا پا رہا ہے۔
جب بچے کو اپنی غلطی کا ادراک ہو تو سزا اصلاحی اثر ڈالتی ہے۔
بغیر وجہ بتائے سزا دینا طلباء کے اندر نا انصافی کا احساس پیدا کرتا ہے، جو نفسیاتی طور پر نقصان ده ہے۔
ماحول کا اثر
مدرسے میں ایسا ماحول ہونا چاہیے جہاں
استاد محبت بھرے ہوں
نظم و ضبط واضح ہو،
طلباء کے مسائل سننے کے لیے الگ وقت رکھا جائے۔
اس سے بچے کے اندر اعتماد پیدا ہوتا ہے اور وہ سزا کے بجائے اصلاحی باتیں خود قبول کرنے لگتا ہے۔
قرآن و سنت سے نفسیاتی اصول
:قرآن پاک کہتا ہے
“أدعُ إلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ”
سورة النحل (125)
ترجمہ: اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ۔
اس آیت کا نفسیاتی پہلو یہ ہے کہ طلباء کو سزا یا نصیحت میں حکمت اور اچھے رویے کو لازمی شامل
اس آیت کا نفسیاتی پہلو یہ ہے کہ طلباء کو سزا یا نصیحت میں حکمت اور اچھے رویے کو لازمی شامل کیا جائے
:نتیجہ
مدرسے کے طلباء کے لیے سزا کا نظام بناتے وقت یہ اصول اختیار کریں
اصلاح پر زور دیں صرف سزا پر نہیں۔
نفسیاتی اثرات کو ہمیشہ مدنظر رکھیں۔
سزا دینے سے پہلے وضاحت کریں۔
بچوں کی عزتِ نفس اور خود اعتمادی کو مجروح نہ کریں۔
استاد کو صبر برداشت اور محبت کا مظہر ہونا چاہیے۔